Registered Homoeopathic Medical Practitioner (RHMP) Reg. No. 179489 — National Council for Homoeopathy
+92 316 5702828
Homoeopathy

ہومیوپیتھک نوسوڈز

October 23, 2026 · by amrizpura@gmail.com

تعریف تیاری اور اصول تجویز

Dr. Rizwan Hameed – DHMS-BHMS-RHMP

ہومیوپیتھک فارمیسی اور طبی لٹریچر میں نوسوڈز کو ایک مخصوص مقام حاصل ہے۔ معالجین کے لیے ان ادویاتی تیاریوں کو سمجھنے کا آغاز ان کے ماخذ، طریقۂ تیاری اور تجویز کی طبی بنیاد سے ہوتا ہے۔

اس مضمون میں نوسوڈز کے بنیادی تصورات، فارماکوپیا کے مطابق تیاری اور روایتی طریقہ ہائے تجویز کی وضاحت کی گئی ہے۔ مزید مطالعے کے لیے حوالہ جات بھی شامل ہیں۔

نوسوڈ کی تعریف

لفظ نوسوڈ یونانی لفظ نوسوس سے ماخوذ ہے، جس کے معنی بیماری ہیں۔

ہومیوپیتھک فارمیسی میں نوسوڈز ایسی ادویاتی تیاریاں ہیں جن کے ماخذ میں مخصوص مرضیاتی بافتیں، بیماری سے متعلق مواد، رطوبات، اخراجات یا خرد حیاتیاتی ذرائع شامل ہوتے ہیں۔ ابتدائی مادّے کو متعلقہ طریقۂ تیاری کے مطابق ضابطہ بند فارماسیوٹیکل مراحل سے گزارا جاتا ہے۔

ہیلتھ کینیڈا نوسوڈز کو ہومیوپیتھک تیاریوں کی ایسی قسم قرار دیتا ہے جو مرضیاتی بافتوں، اخراجات یا رطوبات سے حاصل کی جاتی ہیں۔ [1، 2]

نوسوڈز اور سارکوڈز میں فرق

نوسوڈز کے ماخذ مرضیاتی یا بیماری سے متعلق ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس سارکوڈز روایتی طور پر صحت مند بافتوں، اعضا یا طبعی فعلیاتی مادّوں سے تیار کیے جاتے ہیں۔

کسی تیاری کے اصل ماخذ کا تعین اس کی فارماسیوٹیکل تفصیل سے کیا جانا چاہیے؛ صرف نام کی بنیاد پر ماخذ فرض کرنا مناسب نہیں۔

نوسوڈز کی تجویز کی نظریاتی بنیاد

ہومیوپیتھک معالجین نوسوڈز کو مختلف روایتی طریقہ ہائے تجویز کے تحت زیرِ غور لاتے ہیں۔

طریقۂ تجویزتجویز کی بنیاد
علامات کی مماثلتایسی تیاری کا انتخاب جس کی بیان کردہ علاماتی تصویر مریض کی انفرادی کیفیت سے مطابقت رکھتی ہو۔
سابقۂ مرضمسلسل یا بار بار ظاہر ہونے والی شکایات کے جائزے میں سابقہ بیماری کو پیشِ نظر رکھنا۔
میازمیاتی جائزہہومیوپیتھی کے روایتی نظریاتِ امراضِ مزمنہ کے تحت کیس کی تعبیر کرنا۔
آئسوپیتھک تجویزمریض کی تشخیص سے متعلق جرثومے یا مرضی مادّے سے تیار کردہ دوا کو زیرِ غور لانا۔
بین العلاجی تجویزدورانِ علاج ایسی نوسوڈ کا انتخاب جس کی ضرورت معالج کیس کے ازسرنو جائزے کی بنیاد پر محسوس کرے۔

کسی مخصوص جرثومے سے متعلق تیاری کا انتخاب آئسوپیتھک بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہ مریض کی انفرادی علامات کی مماثلت پر دوا منتخب کرنے سے مختلف طریقہ ہے۔

نوسوڈز کے روایتی مقاصد استعمال

ہومیوپیتھک معالجین عموماً تین طبی تناظر میں نوسوڈز کا ذکر کرتے ہیں۔

1 مخصوص انفیکشن سے وابستہ شکایات

بعض معالجین بیکٹیریا، فنگس یا وائرس کی نشاندہی کے بعد اس سے متعلق نوسوڈ پر غور کرتے ہیں۔ روایتی طور پر اس کا مقصد ان شکایات یا پیچیدگیوں کو مخاطب کرنا ہوتا ہے جنہیں اس جرثومے سے منسوب کیا جاتا ہے۔

اس روایتی مقصد کو انفیکشن یا اس کی منتقلی پر ثابت شدہ قابو کے مفہوم سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ فعال انفیکشن کے لیے مناسب طبی جائزہ، موزوں علاج اور انفیکشن کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اقدامات درکار ہوتے ہیں۔

2 بیماری کے بعد باقی رہنے والی شکایات

جب مریض بیان کرے کہ کسی مخصوص بیماری کے بعد اس کی صحت سابقہ حالت پر واپس نہیں آئی تو بعض معالجین نوسوڈ پر غور کرتے ہیں۔ ہومیوپیتھک اصطلاح میں اسے بیماری کے باقی ماندہ یا ناموافق اثرات کو مخاطب کرنا کہا جاتا ہے۔

مسلسل علامات کی دوبارہ جانچ ضروری ہے، کیونکہ ان کا سبب جاری انفیکشن، بافتی نقصان، کوئی دوسری بیماری یا انفیکشن کے بعد پیدا ہونے والی تسلیم شدہ کیفیت بھی ہو سکتی ہے۔

3 دوران علاج بین العلاجی نسخہ

اگر پہلے سے منتخب دوا کے باوجود بہتری رکتی ہوئی محسوس ہو تو معالج کسی نوسوڈ کو بین العلاجی دوا کے طور پر زیرِ غور لا سکتا ہے۔ اسے بعض اوقات علاماتی دوا کے مؤثر عمل کی راہ ہموار کرنا کہا جاتا ہے۔

یہ تعبیر روایتی ہومیوپیتھک تصور کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کے ساتھ تشخیص، سابقہ علاج اور عدمِ بہتری کی وجوہ کا ازسرنو جائزہ ضروری ہے۔

یہ روایتی طرزِ عمل کی وضاحت ہے۔ موجودہ مستند جائزے مخصوص بیماریوں کے لیے ہومیوپیتھی کی علاجی افادیت قائم نہیں کرتے۔ [6]

فارماکوپیا کے معیارات کے مطابق نوسوڈز کی تیاری

تمام نوسوڈز کے لیے ایک ہی طریقۂ تیاری موزوں نہیں ہوتا۔ درست طریقہ ابتدائی مادّے، متعلقہ فارماکوپیا اور انفرادی مونوگراف پر منحصر ہوتا ہے۔ مونوگراف سے مراد کسی مخصوص ادویاتی مادّے کی شناخت، معیار اور تیاری کی مستند تفصیل ہے۔

امریکی ہومیوپیتھک فارماکوپیا، ایچ پی یو ایس میں نوسوڈز کو کلاس اوّل کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ ہیلتھ کینیڈا کے 10 جنوری 2025 کے نوسوڈز مونوگراف میں اس کے ضابطہ جاتی نظام کے تحت ایچ پی یو ایس کلاس اوّل اور جرمن ہومیوپیتھک فارماکوپیا، ایچ اے بی کے طریقے 43، 44، 58a اور 58b درج ہیں۔ [1، 3]

تیاری کے بنیادی مراحل

درج ذیل خاکہ معالجین کی علمی تفہیم کے لیے ہے؛ یہ تجربہ گاہ میں عمل درآمد کی مکمل ہدایات نہیں ہے۔

مرحلہفارماسیوٹیکل وضاحت
1۔ ماخذ کی شناختمخصوص خرد حیاتیاتی یا مرضیاتی مادّے کی شناخت، اصل اور موزونیت کی تصدیق۔
2۔ ضابطہ بند پراسیسنگمتعلقہ طریقے کے مطابق مادّے کی پراسیسنگ اور جہاں لازم ہو جراثیم سے پاک کرنے یا غیر فعال بنانے کی شرائط کی تکمیل۔
3۔ ابتدائی اسٹاک کی تیاریمقررہ حامل مادّے اور طریقۂ ساخت کے مطابق ابتدائی ادویاتی اسٹاک تیار کرنا۔
4۔ جہاں مقرر ہو ٹریچیوریشنمتعلقہ مادّے کو فارماسیوٹیکل معیار کے لیکٹوز، یعنی شکرِ شیر، کے ساتھ بتدریج کھرل کرنا۔
5۔ جہاں مقرر ہو مائع شکل میں تبدیلیمتعلقہ طریقے میں مقررہ مرحلے پر ٹریچیوریشن کو مائع تخفیف میں تبدیل کرنا۔
6۔ مزید پوٹینٹائزیشنلیبل پر درج پوٹینسی حاصل کرنے کے لیے مقررہ سلسلہ وار تخفیف اور سکشن، یعنی مخصوص ضربی جھٹکوں، کا عمل جاری رکھنا۔
7۔ معیار کی جانچ اور بیچ کا اجرامتعلقہ معیارات کی جانچ، ماخذ، پراسیسنگ، پوٹینسی اور بیچ کے ریکارڈ کی تکمیل اور اجرا کی منظوری۔

مینوفیکچررز کے لیے ماخذ کی شناخت کے ریکارڈ محفوظ رکھنا اور متعلقہ نوسوڈ کے لیے شناخت، اسٹرلائزیشن اور معیاری طریقہ ہائے تیاری، یعنی جی ایم پی، کی شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔ [2]

خشک کرنا شکر شیر اور ٹریچیوریشن

جہاں متعلقہ طریقہ ٹھوس تیاری کا تقاضا کرے، وہاں مناسب طور پر پراسیس کیے گئے ابتدائی مادّے کو خشک کرنے اور لیکٹوز کے ساتھ ٹریچیوریشن کے مراحل سے گزارا جا سکتا ہے۔ مقررہ مرحلے پر ٹریچیوریشن کو مائع تخفیف میں تبدیل کیا جاتا ہے، جس کے بعد مزید تخفیف اور سکشن کیا جاتا ہے۔

خشک کرنے کا مرحلہ صرف اسی صورت شامل ہوتا ہے جب متعلقہ طریقے میں اس کی ہدایت موجود ہو۔ بعض نوسوڈز مائع طریقے سے تیار ہوتے ہیں اور ان کے لیے لیکٹوز ٹریچیوریشن لازمی نہیں ہوتی۔

ہومیوپیتھک فارماکوپیا آف انڈیا کے پہلے ایڈیشن میں عمومی صدوی ٹریچیوریشن کے لیے ایک حصہ ادویاتی مادّہ اور 99 حصے شکرِ شیر کا تناسب بیان کیا گیا ہے۔ یہ عمومی اصول ہر نوسوڈ کے لیے مکمل طریقۂ ساخت نہیں ہے۔ [4]

ماخذ کی پراسیسنگ، تناسب، حامل مادّہ، مراحل کی ترتیب اور مائع شکل میں تبدیلی کا مرحلہ موجودہ متعلقہ مونوگراف کے مطابق ہونا چاہیے۔ مرضیاتی یا متعدی مادّوں کی ہینڈلنگ کے لیے مناسب سہولیات سے آراستہ مینوفیکچرنگ ادارہ ضروری ہے۔

ہومیوپیتھک نوسوڈز کی مثالیں

درج ذیل تیاریاں ہیلتھ کینیڈا کے نوسوڈز مونوگراف میں شامل ہیں۔ یہ شمولیت متعلقہ ضابطہ جاتی نظام میں ان کی شناخت ظاہر کرتی ہے؛ اس سے متعلقہ بیماریوں میں علاجی استعمال ثابت نہیں ہوتا۔ [1]

زمرہمثالیں
بیکٹیریائی ماخذ کی تیاریاںاسٹریپٹوکوکسینم، اسٹیفیلوکوکسینم، سوڈوموناس ایروجینوسا، نیوموکوکسینم اور سالمونیلا ٹائفی
فنگس سے حاصل کردہ تیاریاںکینڈیڈا البیکنز اور ایسپرجلس نائیجر
وائرس سے متعلق تیاریاںایپسٹین بار، انفلوئنزینم اور ہرپس سمپلیکس
دیگر معروف نامسورینم، میڈورینم، سفلینم، ٹیوبرکولینم اور کارسینوسن

خصوصی طبی استعمال کے تناظر میں ہیلیکوبیکٹر پائلوری، کارسینوسن لنگ اور کارسینوسن لیور کے ناموں سے تیاریاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ ہر تیاری کے لیے اس کے ماخذ اور فارماسیوٹیکل شناخت کی الگ تفصیل درکار ہوتی ہے۔

کارسینوسن لنگ اور کارسینوسن لیور کے ناموں کو بالترتیب پھیپھڑوں یا جگر کے سرطان کے ثابت شدہ علاج کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔

نوسوڈز کی تجویز کا عملی طبی خاکہ

مریض کے طبی ریکارڈ میں تشخیص، نوسوڈ پر غور کرنے کی وجہ اور نتائج کے جائزے کا طریقہ واضح ہونا چاہیے۔

پہلا مرحلہ مریض کی طبی کیفیت کا تعین

موجودہ شکایات، دورانیہ، شدت، سابقہ امراض، زیرِ استعمال ادویات اور متعلقہ معائنے کے نتائج درج کریں۔

نسخہ تجویز کرنے سے پہلے ان علامات کی شناخت کریں جن کے لیے فوری تحقیقات یا متعلقہ ماہر کو ریفر کرنا ضروری ہو۔

دوسرا مرحلہ متعلقہ تشخیصی تحقیقات

ممکنہ تشخیص کے مطابق تحقیقات منتخب کریں۔ ان میں کیس کی ضرورت کے مطابق کلچر، مالیکیولر ٹیسٹ، اینٹی جن ٹیسٹ، امیجنگ یا دیگر تسلیم شدہ تحقیقات شامل ہو سکتی ہیں۔

مثبت نتیجے کی طبی تناظر میں تشریح ضروری ہے۔ ٹیسٹ اور حالات کے مطابق یہ فعال انفیکشن، بیماری پیدا کیے بغیر جرثومے کی موجودگی، سابقہ تعرض یا نمونے کی آلودگی کی علامت ہو سکتا ہے۔

تیسرا مرحلہ تجویز کی بنیاد کا اندراج

واضح کریں کہ نوسوڈ پر درج ذیل میں سے کس بنیاد پر غور کیا جا رہا ہے۔

• انفرادی علامات کی مماثلت۔

• سابقۂ مرض۔

• روایتی میازمیاتی تعبیر۔

• بین العلاجی طریقہ۔

• کسی مخصوص جرثومے سے متعلق آئسوپیتھک طریقہ۔

لیبارٹری کا نتیجہ تشخیص کی تائید کر سکتا ہے۔ تاہم صرف مثبت نتیجہ یہ ثابت نہیں کرتا کہ اسی جرثومے کی پوٹینٹائزڈ تیاری اس انفیکشن کا علاج کرے گی۔

چوتھا مرحلہ تیاری کی مکمل تفصیل

دوا کا مکمل نام، مینوفیکچرر، پوٹینسی کا پیمانہ، پوٹینسی، ادویاتی شکل اور نسخے کی تفصیلات درج کریں۔ جہاں دستیاب ہو بیچ کی معلومات بھی محفوظ رکھیں۔

ہر نوسوڈ اور ہر مریض کے لیے ایک ہی پوٹینسی یا تکرار کا نظام موزوں نہیں ہوتا۔

پانچواں مرحلہ فالو اپ کا تعین

دوبارہ معائنے کی تاریخ مقرر کریں اور قابلِ لحاظ طبی نتائج درج کریں۔ ان میں علامات، معائنے کے نتائج اور ضرورت کے مطابق دوبارہ تحقیقات شامل ہو سکتی ہیں۔

علامات بڑھنے یا بہتری نہ آنے کی صورت میں کیس کا ازسرنو جائزہ لیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر علی محمد کا بیان کردہ تحقیقات پر مبنی طریقۂ کار

اس مضمون کے لیے فراہم کردہ معلومات کے مطابق ڈاکٹر علی محمد، ہومیوپیتھ، راولپنڈی، پاکستان میں 1986 سے ہومیوپیتھک پریکٹس کر رہے ہیں اور جرثومے سے متعلق تجویز میں تشخیصی تحقیقات کو اہمیت دیتے ہیں۔

اس طریقے میں متعلقہ تحقیقات کے ذریعے جرثومے کی شناخت کی جاتی ہے۔ اس کے بعد مریض کی تاریخ اور طبی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے متعلقہ پوٹینٹائزڈ تیاری پر غور کیا جا سکتا ہے۔

یہ طریقۂ کار مذکورہ معالج سے منسوب ہے۔ اس کی افادیت کے جائزے کے لیے شائع شدہ کیس ریکارڈ، واضح طبی نتائج اور تقابلی تحقیق درکار ہوگی۔ جرثومے کی لیبارٹری تصدیق تشخیص کی تائید کرتی ہے؛ یہ منتخب علاج کی الگ سے توثیق نہیں کرتی۔

نئے نوسوڈز کی تحقیق اور تیاری

نوسوڈز کی تیاری سے متعلق تحقیق میں ماخذ کی بہتر شناخت، معیار بندی اور ریکارڈ کی تکمیل پر توجہ دی گئی ہے۔

راجیش شاہ نے 2014 کے ایک مقالے میں نوسوڈز کی تیاری میں یکسانیت بہتر بنانے کے لیے ایک ترمیم شدہ طریقہ پیش کیا۔ اسے تحقیقی تجویز کے طور پر بیان کرنا چاہیے، نہ کہ ایسا طریقۂ ساخت جو خود بخود ہر فارماکوپیا نے اختیار کر لیا ہو۔ [5]

نیا نوسوڈ کسی نئے زیرِ تحقیق ماخذ، نئی معیار بند تیاری یا کسی فارمیسی کی فہرست میں نئی شامل ہونے والی دوا کے لیے بولا جا سکتا ہے۔ فارماکوپیا میں باقاعدہ شمولیت ایک الگ مرحلہ ہے۔

خصوصی نوسوڈز فراہم کرنے والی ہومیوپیتھک فارمیسیز

فارمیسی یا مینوفیکچررخصوصی نوسوڈز کی رینج
ریمیڈیا ہومیوپیتھی آسٹریاایپسٹین بار نوسوڈ اور بیکٹیریم پیوسیانس نوسوڈ، جس کے مترادف نام میں سوڈوموناس ایروجینوسا درج ہے۔ [7]
ہیلیوس ہومیوپیتھی برطانیہخصوصی تیاریاں، جن میں کارسینوسن لنگ شامل ہے۔ [8]
کمال لیبارٹریز پرائیویٹ لمیٹڈ پاکستان1967 میں قائم، ڈریپ میں انلسٹڈ ہومیوپیتھک اور بایوکیمک ادویات کا ادارہ۔ اس مضمون کے لیے فراہم کردہ کمپنی کی معلومات کے مطابق کمال 300 سے زائد نوسوڈز تیار کرتا ہے، جو ہومیوپیتھک معالجین کے لیے گوگل پلے پر دستیاب کمال پریکٹیشنر ایپ کے ذریعے پیش کیے جاتے ہیں۔
نیوٹن ہومیوپیتھکس امریکہخصوصی تیاریاں، جن میں ایپسٹین بار وائرس کی تیاری پیشہ ورانہ رینج میں نوسوڈ کے طور پر درج ہے۔ [9]

پاکستان میں کمال لیبارٹریز اور معالجین کی رسائی

کمال لیبارٹریز کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس کا مینوفیکچرنگ ادارہ ڈریپ انلسٹمنٹ نمبر 0020 کے تحت درج ہے۔ ویب سائٹ کمال پریکٹیشنر ایپ کے ذریعے معالجین کو براہِ راست فروخت کی سہولت بھی بیان کرتی ہے۔ یہ ایپ گوگل پلے پر دستیاب ہے۔ [10، 11]

ہومیوپیتھک معالجین کے لیے کمال پریکٹیشنر ایپ گوگل پلے سے ڈاؤن لوڈ کریں۔

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.app.kamalsingleremidies

اہم ہدایت: نوسوڈز صرف مستند اور رجسٹرڈ ہومیوپیتھک معالج کے نسخے کے مطابق استعمال کیے جائیں۔ خود تشخیصی یا خود علاجی کی بنیاد پر ان کا استعمال مناسب نہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا نوسوڈز اور ویکسین ایک ہی چیز ہیں

نہیں۔ نوسوڈز ہومیوپیتھک تیاریاں ہیں اور ویکسینیشن کا متبادل نہیں ہیں۔ ہیلتھ کینیڈا کے مونوگراف کے مطابق انفیکشن سے بچاؤ میں ان کی افادیت ثابت نہیں ہوئی۔ [1]

کیا تمام نوسوڈز ٹریچیوریشن سے تیار ہوتے ہیں

نہیں۔ ٹریچیوریشن اسی صورت کی جاتی ہے جب متعلقہ طریقۂ تیاری میں اس کی ہدایت ہو۔ بعض تیاریاں مائع طریقے سے بنتی ہیں۔

کیا بیکٹیریا یا فنگس کا مثبت ٹیسٹ خود بخود نوسوڈ کی نشاندہی کرتا ہے

نہیں۔ نتیجے کی طبی تشریح ضروری ہے۔ نوسوڈ پر غور کرنے کی بنیاد ریکارڈ میں واضح ہونی چاہیے اور اس سے فعال انفیکشن کے مناسب علاج میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

کیا ہر نوسوڈ کے لیے ایک ہی پوٹینسی تجویز کی جا سکتی ہے

ہر تیاری اور ہر مریض کے لیے ایک ہی پوٹینسی یا تکرار کا اصول لاگو نہیں ہوتا۔ ہر نسخے کا انفرادی اندراج ضروری ہے۔

نوسوڈز کون تجویز کرے

نوسوڈز مستند اور رجسٹرڈ ہومیوپیتھک معالج، مریض کے انفرادی طبی جائزے کے بعد تجویز کرے۔ صرف خود تشخیصی یا لیبارٹری رپورٹ کی بنیاد پر ان کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔

یہ مضمون طبی پیشہ ور افراد کی علمی رہنمائی کے لیے ہے۔ طبی فیصلوں میں انفرادی جائزہ، مناسب تشخیصی تحقیقات اور بروقت علاج یا متعلقہ ماہر کو ریفر کرنا ضروری ہے۔

← Back to Articles